Hindu Calendar 2022 – हिंदू कैलेंडर 2022 READ ONLINE
Friends, Here we are going to upload the हिंदी पंचांग कैलेंडर 2022 PDF / Hindu Calendar 2022 with Tithi PDF in Hindi for our users. In this calendar you can watch out for the list of festivals to be celebrated in India in the year 2022, this calendar, fasting, sunrise, sunset, monthly holidays, and much more. This is a month-wise list of most Hindu festivals in the year 2022. Most of the Hindu festivals are determined based on the position of the Sun and the Moon. In this article, you can download the हिंदी पंचांग कैलेंडर 2022 PDF / Hindu Calendar 2022 with Tithi in Hindi PDF
हिंदी पंचांग कैलेंडर 2022 PDF | Hindu Calendar 2022 with Tithi Hindi PDF – Detail
Please visit Hindu Festivals as per Lunar month to know in which Lunar month festivals are celebrated. Hindu Festivals depend on location and might differ between two cities and the difference is quite noticeable for cities in different time zone. Hence one should set the location before looking into the festival list.
Hindu festivals calendar is also known as Hindu Vrat and Tyohar calendar. The fasting is known as Vrat or Upavas and the festival is known as Tyohar or Parva in the local language. Most Hindu festival calendars include significant fasting days along with festivals. Many Hindu festivals are celebrated while keeping a day-long fast on the festival day. Hence in Hinduism Tyohar(s) is time for celebrations, deity worship, and austerity.
اسرائیل کو تسلیم کرنا در حقیقت عالم اسلام اور ایمان کا مسئلہ ہے تسلیم کرنے کا مقصد بیت المقدس کے انہدام اور اس کی جگہ دجال کے ہیڈکوارٹر ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر کو یقینی بنانا ہے. میری یہ تیرا سال کی رسرچ اور ایمان ہے کہ جب تک آئی ایس آئی وجود رکھتی ہے دنیا کی کوئی بھی طاقت اسرائیل کو پاکستان سے تسلیم نہیں کروا سکتی۔ میں شیعہ سنّی (درودی) اتحاد بنا کر فوج کے ساتھ کھڑا کر کے عالمی بارودی طاقتوں کو اسی سر زمیں پر سب سے بڑی شکست دونگا۔ سید فیصل رضا عابدی (ترجمان وائس آف شہدائے پاکستان)
آپ کی ولادت 30 جون 1897 کو موضع جھگیاں میں سید امیر شاہ مشہدی کے گھر ہوئی ۔ آپ کی والدہ محترمہ سیدہ سردار بی پنڈی سید پور کے سادات سے تھیں ۔
آپ کا تعلق سادات کاظمی المشہدی کی مشہور شاخ قاضیال سے ہے ۔ آپ کے اجداد نے مختلف جگہوں سے ہوتے ہوئے سید کسراں اور پھر شاہ پور چکوال کے قریب دلجبہ پہاڑی پر طویل عرصہ گزارا ۔ 1754 کے قحط کے بعد آپ کے اجداد علاقہ پنڈ دانخان وارد ہوئے اور پنڈ دادنخان سے مغربی سمت تقریبن 15 کلومیڑ دور دریائے جہلم کے بالکل قریب کچہ کوٹ نامی گائوں میں سکونت اختیار کی ۔1850 کے لگ بھگ ایک سیلابی ریلے نے اس گائوں کو دریا برد کیا تو یہاں سے اکثر سادات مختلف مقامات کی طرف نقل مکانی کر گئے ۔ انہی میں آپ کے دادا بزرگوار سید محمد شاہ بن سید محمود شاہ تھے جو علاقہ پنڈی سید پور وارد ہو کر موضع جھگیاں آباد ہوئے ۔ آپ کے والد محترم سید امیر شاہ انڈین آرمی میں ملازم تھے اور وہ 1903 ع کے لگ بھگ حاضر سروس فوت ہوئے والد کی وفات کے بعد آپ کی والدہ محترمہ آپ سب بہن بھائیوں کو لے کر اپنے ننہالی گائوں سیدانوالہ تشریف لے آئیں آپ نے اسی گائوں میں پرورش پائی ۔ ابتدائی مذہبی تعلیم اور قرآن مجید ناظرہ اسی گائوں کے خطیب مولانا مدد علی جعفری لکھنوی سے پڑھا ۔ 30 اگست 1916 کو آپ آرمی کے شعبہ انجینرنگ میں بھرتی ہوئے ۔ اور 15 سال گزار کر 30 اگست 1931 ع کو لانس نائیک رینک میں ریٹائرڈ ہوئے ۔
شادی ۔ 25 اپریل 1921 کو آپ کی شادی موضع مونگ میں اپنی خالہ زاد بہن سے ہوئی ۔ تقریبن ایک سال گزرا تھا کہ آپ کی زوجہ کا انتقال ہو گیا ۔ آپ نے دوسری شادی موضع سیدانوالہ میں سید شاہسوار ولد سید امیر عالم شاہ کی دختر سیدہ بیگم بی سے کی ۔ جن کے بطن سے آپ کی درج ذیل اولادیں ہوئیں ۔
1۔ سیدہ غلام کبریٰ زوجہ سید مقبول حسین کاظمی (راقم کی نانی محترمہ )
2۔ آنریری کیپٹن سید منظور حسین کاظمی (اولاد سرگودھا شہر )
3۔سیدہ غلام صغریٰ زوجہ سید عاشق حسین کاظمی
4۔ سید باقر حسین ۔(لاولد فوت ہوئے )
5۔ سید عجائب حسین ۔(دو دختران )
6۔ سیدہ غلام زینب زوجہ سید شبیر حسین کاظمی حال مقیم ویسٹریج راولپنڈی
سید باغ علی شاہ کاظمی پابند صوم و صلاة اور انتہائی مذہبی لگن رکھنے والے انسان تھے ۔بڑھاپے اور بیماری میں بھی کبھی نماز پڑھنے میں سستی نہ کی ۔گائوں کے بھی مذہبی اور فلاحی کاموں میں بھر پور حصہ لیتے تھے ۔
7۔جنوری 1961 بمطابق 18 رجب المرجب بروز سوموار کو آپ کی زوجہ محترمہ نے وصال فرمایا ۔
11 نومبر 1977 ع کو ایک جانکاہ حادثہ سے دوچار ہوئے ۔ آپ کا جواں سال بیٹا سید عجائب حسین کاظمی جو آرمی میں حوالدار تھے ایک حادثہ کے سبب جاں بحق ہو گئے ۔ بڑھاپے میں جوان بیٹے کی وفات کی خبر نے آپ کو بالکل نڈھال کر دیا ۔ بیٹے کی وفات کے بعد آپ بھی ذیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکے ۔ 26 اپریل 1982 ع بمطابق یکم رجب المرجب بروز سوموار کو 85 سال کی عمر میں آپ بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ آپ کو سیدانوالہ قبرستان کاظمیہ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔
آپ کے دیگر بہن بھائیوں کی تفصیل
1.سیدہ راج بی زوجہ سید مہتاب شاہ آف لڈوا شریف ( مادری بہن)
2.سیدہ کرم بی زوجہ سید سردار شاہ بن مہر شاہ آف چوٹ دھیراں نزد ملکوال
3.سیدہ زینب بی زوجہ سید پہلوان شاہ بن جمعہ شاہ سیدانوالہ جہلم
4.سید باغ علی شاہ
5۔ سیدہ اِلَہ بی زوجہ سید راجے شاہ بن فضل شاہ سیدانوالہ
6۔سیدہ غلام بی زوجہ سید شاہ مراد شاہ بن سید فتح علی شاہ سیدانوالہ (میری دادی محترمہ)
7.سید حسین شاہ لاولد جوانی میں فوت ہوئے
از ۔ . تاریخ سیدانوالہ غیر مطبوعہ
تالیف ۔ سید محسن رضا کاظمی الحمیدی سیدانوالہ ضلع جہلم
عالم تشیع کے ایک اہم مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے اسرائیلی مصنوعات کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو فائدہ پہنچانے والی کمپنیوں کی مصنوعات کی خرید و فروخت کو ناجائز قرار دے دیا ہے۔
نیوزایجنسی ارنا نے عراقی ٹیلی ویژن چینل الفرات کے حوالے سے بتایا ہے کہ بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے یہ حکم اس سوال کے جواب میں دیا ہے جس میں پوچھا گیا تھا کہ” کیا ایسی سپرمارکیٹوں سے خرید و فروخت جائز ہے جن کے منافع کا ایک حصہ اسرائیل کے حمایت کے لئے مختص کیا جاتا ہے۔”
آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ “اسرائیلی مصنوعات اور ایسی کمپنیوں کی پیداوار کی خرید و فروخت جن کے بارے میں یقین ہے کہ وہ موثر طور پر اسرائیل کی حمات کرتی ہیں، جائز نہیں۔”
حضرت سید شاہ نواز ہمدانی رح مزار موضع بخشہ تھانہ قادر پور ضلع جھنگ
حضرت سید شاہ نواز ہمدانی رح مزار موضع بخشہ تھانہ قادر پور ضلع جھنگ
__________
آپ کی ولادت 1850 کے لگ بھگ تلہ گنگ ضلع چکوال میں سادات ہمدانیہ تلہ گنگ کی شاخ کریم شاہال میں سید نور حسین شاہ بن سید احمد سلطان ہمدانی رح کے گھر ہوئی ۔ آپ کا نسبی تعلق علاقہ پوٹھوہار کے مشہور و معروف خانوادہ ساداتِ ہمدانیہ سے ہے ۔ آپ سلطان العرفاء حضرت سید شاہ احمد بلاول رح (مزار دندہ شاہ بلاول ضلع چکوال ) کے فرزندِ ارجمند سید عبداللہ شاہ ہمدانی کی اولادِ نیک نہاد سے ہیں ۔ النسابہ سید قمر عباس الاعرجی ہمدانی صاحب کی کتاب مدرک الطالب ع کے مطابق یہ ہمدانی سادات امیر کبیر سید علی ولی ہمدانی رح کی اولاد سے ہیں اور یہ ہمدانی سادات عرب کے مشہور خانوادہ حسینیہ الاعرجیہ ( اولاد حسین الاصغر بن امام زین العابدین ع) کی ایک اہم فرع ہیں ۔آپ کے اجداد میں امیر کبیر علی ولی ھمدانی رح اور سید شاہ احمد بلاول رح کے علاوہ بھی کئی بزرگان گزرے ہیں جن میں سید شاہ فتح نور ہمدانی (مزار تلہ گنگ ) سید شاہ لطیف ہمدانی (مزار میال ) اور شاہ عبد اللہ ھمدانی (مدفن دندہ شاہ بلاول) زیادہ معروف ہیں ۔
آپ کے والد محترم سید نور حسین شاہ رح بھی ایک عارف بزرگ تھے ۔ آپ کی والدہ محترمہ کا تعلق اعوان فیملی سے تھا ۔ آپ نے ابتدائی علوم ظاہر و باطن اپنے والد محترم سے حاصل کیے اس کے بعد ضلع جھنگ کے موضع بخشہ میں ایک عظیم بزرگ سید شیرازی بادشاہ کے پاس رہ کر روحانی و معنوی علوم کی تکمیل کی کہا جاتا ہے آپ صاحبِ کشف و کرامات بزرگ تھے ۔ جسمانی امراض ریح و ہوا اور گائے بھینسوں کے امراض کا خاص طریقہ کڑا سے علاج کے عامل تھے ۔ جس کا اذن آج بھی آپ کی اولاد میں جاری و ساری ہے ۔ شکار اور گھڑ سواری کے شوقین تھے ۔ اپنے مرید اللہ داد بلوچ اور مرشد سید شیرازی بادشاہ ساکن بخشہ کے اصرار پر موضع بخشہ تشریف لے گئے اور تمام عمر ادھر ہی رہے اور ادھر ہی وصال فرمایا ۔ آپ کا مزار پُرانوار موضع بخشہ میں ایک چار دیواری میں واقع ہے ۔ جہاں سے آج بھی لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں ۔ آپ کی ایک کرامت جو خاص و عام میں مشہور ہے آپ کے مزار کی حویلی میں کوئی عورت داخل نہیں ہوسکتی اور اطراف میں رہنے لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر سو نہیں سکتے ۔
_____اولاد و احفاد ____
آپ کی شادی تلہ گنگ کے قریب ڈھوک بازا میں اعوان خاندان میں ہوئی ۔ جن سے آپ کے صرف ایک فرزند سید امیر انور شاہ تولد ہوئے ۔ سید امیر انور شاہ بھٹو دور میں ایس ایف ایس میں بھرتی ہوئے اور پھر سندھ پولیس میں بھی کافی وقت گزارا ۔ آپ بھی دم کرتے اور بیمار جانوروں کو کڑا ڈالا کرتے جس سے اللہ تعالی کے فضل و کرم سے مریض شفایاب ہو جاتے ہے ۔ آپ کے تین فرزندان سید غلام شاہ ہمدانی ، سید محمد شاہ ہمدانی اور سید شاہ نواز ہمدانی ہوئے ۔
___سید غلام شاہ ہمدانی بن سید امیر انور شاہ ہمدانی _____
آپ سادہ طبیعت کے مالک ہیں اور عرصہ 60 سال سے کراچی میں قیام پزیر ہیں آپ کے تین فرزند ہیں ۔
1. سید احمد شاہ ہمدانی ( انکا ایک بیٹا سید رحمن شاہ ہے )
2. زوارسید محمد عابد حسین شاہ ہمدانی
یہ 2018 میں پاک آرمی سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں ۔۔سادات ہمدانیہ کے مشاہیر پر بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور سادات ہمدانیہ کے آپس میں روابط کروانے میں انتہائی متحرک ثابت ہوئے ہیں ۔ محب اھلبیت ع اور عزادار امام حسین ع ہیں ۔ زیارات مقدسہ سے بھی شرف یاب ہو چکے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ان کی ہمدانی سادات کے بزرگوں پر لکھی ہوئی تحاریر اکثر نظر سے گزرتی رہتی ہیں ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ محمد و آل محمد ص کے صدقہ میں ان کو اولاد نرینہ عطا فرمائے ۔
3. سید فیاض حیدر شاہ ہمدانی ( انکا ایک بیٹا سید عون حیدر ہے )
___ سید محمد شاہ بن امیر انور شاہ _____
آپ پُر سوز آواز کے مالک ، خوش مزاج ، زندہ دل اور وسیع القلب انسان تھے ۔ اھلبیت اطہار ع کی شان میں قصیدہ خوانی انتہائی خوش الحانی سے فرماتے ۔ 2004 میں انتقال فرمایا اور موضع ڈھوک بازہ تحصیل تلہ گنگ میں دفن ہوئے ۔ انکی اولاد بھی ڈھوک بازہ میں قیام پزیر ہے ۔ آپ کے چار فرزندان کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
1. سید سجاد حیدر شاہ (انکے تین فرزندان سید سنان حیدر ، سید علیان حیدر اور سید علی ہمدانی ہیں )
2. سید وقار حیدر شاہ یہ پاکستان ائر فورس میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
3. سید وسیم حیدر شاہ 4. سید سعید انور شاہ
____سید شاہ نواز ہمدانی ابن سید امیر انور شاہ ہمدانی ____
بہ سلسلہ روزگار کراچی مقیم ہیں انکے دو فرزندان ہیں ۔
1. سید امیر حیدر شاہ ہمدانی
یہ پاکستان ائر فورس میں ملازم ہیں (انکا ایک فرزند سید ہمدان حیدر ہے)
2. سید نعیم حیدر شاہ ہمدانی
یہ سیاست میں سرگرم ہیں پاکستان تحریک انصاف میں ضلعی سطح پر اہم رکن ہیں ۔
_______مصادر________
1. روضة الطالب فی اخبار آل ابی طالب علیہ السلام
مولف ۔ النسابہ سید قمر عباس الاعرجی الھمدانی
2. کتاب المشجر من اولاد حسین الاصغر (ع)۔ مولف النسابہ سید قمر عباس الاعرجی الہمدانی
اپ کی ولادت 1940ع مین سید یوسف شاہ مشہدی رح کے گھر ہویی . اپ کا تعلق کاظمی مشہدی خاندان سے ہے . جو کشمیر بھر مین علم و دانش کی وجہ سے کافی شہرت رکھتا ہے.
شجرہ نسب
سید محمد اشرف شاه بن سید یوسف شاه بن سید حیدر شاه بن سید محمد علی المعروف بدھا شاہ بن سید محمد غازی بن سید انور شاه بن سید میران خواج محمد غازی بن سید میران برخوردار غازی بن سید یار شاه غازی بن حضرت شاه سید محمد غازی رح مزار مجہویی مظفر اباد بن سید حسام الدین بن سید محمد کریم بن سید حسین شاه مشہدی مزار کرسال چکوال بن سید ادم شاہ بن سید شاہ علی شیر بن سید شاہ عبدالکریم بن سید وجیہ الدین بن سید محمد ولی الدین بن سید محمد ثانی الغازی بن سید رضاالدین بن سید صدرالدین بن سید محمد احمد سابق بن سید سلطان ابوالقاسم حسین موسوی المشہدی رح بن سید علی الامیر بن سید عبد الرحمن ریس الزمان بن سید اسحاق ثانی بن سید ابوالحسن موسی الزاهد بن سید ابوالحسین محمد العالم بن سید ابوالقاسم عبدالله بن سید ابو عبدالله محمد الاول بن سید اسحاق الامیر الموافق بن حضرت امام موسی کاظم ع
اپ کا وصال 15 جنوری 2001 ع کو بعمر 60 سال ہوا . اپ کا مزار پر انوار چھتر دومیل مظفر اباد کشمیر مین مرجع خلایق هے . کل مورخہ 22 جنوری بروز اتوار اپ کا عرس منعقد ہو رہا ہے .
مرکز تحقیقات انساب سادات پاکستان کے مرکزی رکن
ماہر انساب سید ابو زہرا فدا حسین موسوی المشہدی مظفر ابادی صاحب کی تحقیقی تحریر کشمیر کی 3 اخبارات مین شایع هویی.
روز نامہ محاسب 15 جنوری 2016 ع
روزنامہ خبر نامہ 15 جنوری 2016ع
روز نامہ صبح نو 16 جنوری 2016 ع
مرکز تحقیقات انساب سادات پاکستان کے مرکزی رکن ایدووکیت سید مظہر علی کاظمی اف مجہویی ضلع مظفر اباد اپ کے نواسے ہین .
نام كتاب : تاريخ سادات زيدي تاليف : سيد معروف حسين زيدي سجاده نشين دربار شاه سفير رح تحصيل سوهاوه ضلع جهلم ناشر : مكتبه سجاديه شاه سفير جهلم بيشكش : سيد علي رضا زيدي 03325147472